اہم ترین

ڈنکا قبائل کی خواتین اور حتیٰ کہ مرد بھی بالوں کی چمک اور خوبصورتی کے لئے گائے کے پیشاب سے کیا کرتے ہیں جانئیے

خرطوم(کرائم سیل) جنوبی سوڈان کا ’ڈنکا‘ قبیلہ جدید دنیا سے بے خبر آج بھی اپنے صدیوں پرانے رسوم و رواج کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔ پہلی بار ان قبائل کی نادر تصاویر فوٹوگرافر سٹیفنی گلنسکی دنیا کے سامنے لائی ہیں تو ہر کوئی ان کے عجیب و غریب طرز زندگی کو دیکھ کر حیران رہ گیا ہے ۔ ڈنکا قبائل کی گزربسر جانور پالنے پر منحصر ہے۔ موسمی حالات موزوں ہوں تو یہ بلند میدانی علاقوں میں بسیرا کرتے ہیں اور جب خشک سالی کا دور آتاہے تو یہ پورے کے پورے قبیلے دریائے نیل کے کنارے جا بستے ہیں جہاں یہ اپنی جھونپڑیوں کا عارضی شہر بسا لیتے ہیں۔ان کے طرز زندگی میں جدید ٹیکنالوجی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ مثال کے طور پر مچھروں سے بچنے کے لئے یہ لوگ اپنے جسم پر راکھ ملتے ہیں جسے گائے کو خشک گوبر کا جلا کر حاصل کیا جاتا ہے۔ اس تصویر میں ایک لڑکے کو راکھ اپنے چہرے پر ملتے ہوئے دیکھا جاسکتاہے۔اسی طرح بالوں کی خوبصورتی کے لئے بھی ان کا اپنا ہی نسخہ ہے۔ شایدآپ کبھی بھی اس نسخے کا آزمانے کی ہمت نا کر سکیں لیکن ڈنکا قبائل کی خواتین اور حتیٰ کہ مرد بھی بالوں کی چمک اور خوبصورتی کے لئے گائے کے پیشاب سے سر دھوتے ہیں۔ ان کے ہاں سب سے عام استعمال ہونے والا ہتھیار نیزہ ہے جسے چھوٹے بچے بھی استعمال کرنا جانتے ہیں۔ اسے حفاظت کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور شکار کے لئے بھی۔ڈنکا قبائل میں جب کوئی لڑکا بلوغت کو پہنچتا ہے تو اسے ایک بیل تحفے میں دیا جاتاہے اور لڑکے اور اس کے بیل کا نام ایک ہی رکھ دیا جاتا ہے۔ ڈنکا کمیونٹی کئی قبائل پر مشتمل ہے جن کی مجموعی آبادی 40 لاکھ سے زائد ہے۔ قدیم قبائل میں سے یہ قبائل تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow

Online Shopping in BangladeshCheap Hotels in Bangladesh