چولستان قحط سالی خشک سالی کاشکارانسان اورجانوربھوک پیاس سے تڑپنے لگے

لیاقت پور (حافظ مسعود سے) چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی غفلت اور محکمہ انہار کی ملی بھگت کے باعث چولستان کے میدانی علاقوں میں پانی کی شدید قلت، انسانوں اور جانوروں کے پینے کے لیے بنائے گئے ٹوبے خشک، انسان اور جانور پیاس سے مرنے لگے، تین درجن سے زاید جانور جن میں اونٹ، گائے اور بکریاں ہلاک ہو چکی ہیں، گزشتہ دو ماہ سے پانی ناپید، ستمبر کے سخت موسم میں بھی پانی میسر نہ ہو سکا، چولستانیوں کا وزیراعلیٰ پنجاب اور ایم ڈی چولستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق لیاقت سے بنگلہ قاسم والی سے نکلنے والی ون ایل عباسیہ چولستان کے مختلف علاقوں میں پینے کے پانی اور قابل کاشت رقبہ کے لیے پانی فراہم کرنے والی واحد مائنر ہے جس سے چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے قابل کاشت اراضی کو پانی اور ان علاقوں میں جانوروں اور انسانوں کے پینے کے لیے بنائے گئے ٹوبوں کو پانی دیا جاتا ہے تاہم گزشتہ دو ماہ سے اس مائنر میں پانی انتہائی ڈیڈ لیول کا چھوڑا جا رہا ہے جس سے ٹیل تک پانی کی بوند بھی نہیں پہنچتی، ایس ڈی او انہار لیاقت پور کو بارہا شکایت کی تاہم کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ان علاقوں میں مقیم لوگوں کا گزربسر صرف اور صرف مال مویشی ہی ہیں جن کے لیے وہاں کے باسی جنگلوں میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ چک نمبر 286-1L کے نمبر دار عبداللطیف، چک نمبر 285-1L کے نمبر حافظ مسعود الحسن لاٹکی، چک نمبر 284-1L کے نمبر دار مولانا مشیر احمد پڑھار، چک نمبر 283-1L کے نمبر لطف علی، چک نمبر 282 کے نمبر قادر بخش ودیگر نے ایکسین احمد پور، چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذمہ داران اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ان علاقوں میں پانی کی کمی کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow