شجرکاری کے عظیم منصوبہ کیلئے ایک تجویز

شجرکاری کے عظیم منصوبہ کیلئے ایک تجویز
تحریر:موسیٰ سعید چیئرمین پیپلز اکیڈمی پاکستان
عمران حکومت کے پاس صوبہ ’’کے پی کے‘‘ کے حوالے سے شجرکاری کاتجربہ بھی ہے اورتربیت یافتہ ٹیم بھی ہے۔ مورخہ28 اگست 2018 کو’’ عمران وفاقی کابینہ میں کیے گئے فیصلے کے مطابق پانچ سال کے عرصہ میں 10 ارب درخت لگائے جائیں گے اگرایک درخت پر100 روپے اخراجات آئیں تویہ10 سوارب روپے کی ایسی سکیم ہوگی جس پرہرسال بیس سوارب روپے اضافی اخراجات کیے جائیں گے جبکہ شجرکاری سے آمدن حاصل کرنا 5 سے دس سال بعدشروع ہوگی جس میں بتدریج شاندار اضافہ ہوتاچلاجائیگا جس پر متعلقہ انڈسٹری بھی قائم کی جاسکے گی۔
شجرکاری کے حوالے سے پیپلزاکیڈمی پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی مجوزہ سکیم میں واضح کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ سابق صدرجنرل پرویز مشرف کے دورمیں اسوقت کے وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویزالہی جو‘اب عمران حکومت میں بطوراتحادی سپیکرپنجاب اسمبلی شامل ہیں کے گزشتہ دورکے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے قیام کے اس کامیاب تجربہ کوسامنے رکھاجائے جوکہ سرکاری سکولوں کے مقابلے پرپرائیویٹ پارٹنرشپ کی بنیاد پر چلائے جانیوالے پرائیویٹ سکولوں کی کارکردگی ہے جس پر ایک تہائی کم اخراجات کیساتھ بہترتعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے پیش کی جانیوالی مجوزہ شجرکاری سکیم کوروبہ عمل لانے کیلئے وفاقی فاریسٹ فاؤنڈیشن اور جن صوبوں میں پی ٹی آئی کی حکومتیں ہیں صوبائی فاریسٹ فاؤنڈیشن قائم کی جائیں جوفاریسٹ، اری گیشن روڈز ڈیپارٹمنٹ، لوکل گورنمنٹ، ریلویز اوردیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے اشتراک سے درج ذیل نکات پر کام کریں۔
1 ۔ دریاؤں، نہروں، سٹرکوں کے کناروں کی پٹیوں کی لمبائی اورچوڑائی کی پیمائش کرائیں۔
2 ۔ ان کناروں کی زمینی پٹیوں کی صلاحیت، موسم کی موزونیت کیلئے درختوں کی اقسام تجویز کرے جن میں پھلدار اورادویات کے درختوں کوترجیحی بنیاد پرشجرکاری کرائیں۔
3 ۔دریاؤں، نہروں، سٹرکوں کے کناروں پرموجود درختوں کا ریکارڈ تیارکرائیں۔جبکہ سٹرکوں کے غیرقانونی قابضین کاریکارڈ بھی تیارکروائیں جنہیں موزونیت کے اعتبار سے مناسب کرایہ داری پرالاٹ کریں۔
4 ۔ ان زمینی پٹیوں کیلئے آبپاشی کے نظام جن میں موبائل آبیاشی اورصحرائی علاقوں میں موزونیت کے اعتبار سے’’ گھڑاآبپاشی‘‘اورچاندگاڑی کی طرز پرآبپاشی منی کنیٹز کے نظام مرتب کرائیں۔
5 ۔افراد ی قوت میں کسانوں کے میٹریکولیٹ بے روزگارنوجوانوں کو فارسٹری کے تعلیم وتربیت کے شارٹ ٹرمزکورسز کے ذریعے فاریسٹ ورکرز فورس تیارکرائیں۔
6 ۔زمینی پٹیوں کوپانچ سے دس کلومیٹرکے سائز میں لاٹ بندی کرائیں۔
7 ۔’’2زمینی پٹی لاٹوں‘‘ کے درمیان یاجیسی موزونیت ہو، نرسری منی‘ پٹرول پمپ، ریسٹورنٹ، آٹوورکشاپس وغیرہ کیلئے پلاٹوں کااہتما م کرائیں۔جنہیں نیلام کر کے شجرکاری سکیم کیلئے فوری آمدنی کاذریعہ بنایاجاسکتاہے۔
8 ۔وفاقی اورصوبائی فاریسٹ فاؤنڈیشنز‘ پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بنیاد پر تربیت یافتہ فاریسٹ ورکرز اور منظم کرائی گئی پرائیویٹ فاریسٹ کمپنیوں کو یہ زمینی پٹیوں کی لاٹوں کو5 سال کی مدت کیلئے جس میں کارکردگی کی بنیاد پراضافہ کیاجاسکے ‘کی سہولت کیساتھ الاٹمنٹ کریں۔
9 ۔پھلدار شجرکاری کی بنیاد پر فروٹ انڈسٹریز قائم کرانے کانظام مرتب کریں۔
10 ۔ فاریسٹ فاؤنڈیشن مارکیٹ کے تناسب سے شجرکاری کرانے، آبپاشی ‘ پرورش اورحفاظت کیلئے پیشگی اورماہانہ بنیاد پر سٹنڈرڈ مالی معاوضہ(Funanicial Sup129129129129129port ) اورفنی سپورٹ کانظام مرتب کریں۔
11 ۔ الاٹیوں کوسٹرکوں کے کنارے غیرقانونی قابضین سے موزونیت کے اعتبار سے قائم کیے گئے کرایہ کو وصول کرکے خزانہ سرکارمیں جمع کرانے کی ذمہ داری بھی(Collector_ship )سونپ دی جائے۔ جس سے مجوزہ شجرکاری سکیم کامالی سپورٹ کا سیکشن مل جائیگا۔
12 ۔ اس سے سٹرکوں، نہروں کی سکیورٹی کا چوکیدارانہ طرز پر اضافی نظام بھی قائم کیاجاسکے گا۔
نوٹ: یہ مدنظررہے کہ جہاں نہروں، دریاؤں، ریلوے لائنوں کی زمینی پٹیوں پرعظیم شجرکاری کرائی جاسکتی ہے وہاں سبزیوں کی شاندار پیداوار بھی حاصل کی جاسکے گی۔
اس مجوزہ پرائیویٹ پارٹنر شپ فارسٹری پروگرام کے ذریعے تقریباً ایک لاکھ افراد کو بآسانی روزگار فراہم کیاجاسکے گا۔ جس میں مسلسل تیزی سے اضافے کارحجان بھی جاری رہے گا اورشجرکاری کے ذریعے بنایاگیا’’گرین پاکستان ‘‘دنیابھرکے ممالک کیلئے مثال قرارپاجائیگا ۔

About akhtarsahu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow

Online Shopping in BangladeshCheap Hotels in Bangladesh