بھارتی سابق وزیراعظم واجپائی اب ووٹر بھی نہیں رہے ، فہرست سے نام خارج

لکھنو (کرائم میل  ) بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اب رائے دہی کے حق سے بھی محروم ہوگئے ۔ لکھنو میں سب سے اہم پتہ مکان نمبر 92/98۔1 واقع بسمنڈی علاقہ بابو بنارسی داس وارڈ کے مکین اٹل بہاری واجپائی کا نام اب مجالس مقامی کی فہرست رائے دہندگان سے بھی خارج کردیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس پتہ پر کئی برسوں سے مقیم نہیں ہیں۔ لکھنو میونسپل کارپوریشن کے زون 1 150 کے زونل آفیسر اشوک کمار سنگھ نے کہا کہ واجپائی کا نام فہرست رائے دہندگان سے خارج کردیا گیا ہے اور یہ فیصلہ فہرست سے متعلق تازہ ترین مہم کے بعد کیا گیا ۔ کہا گیا ہے کہ اب واجپائی کا مکان جو راجیندر اسمرتی بھون کے نام سے تھا اب وہ کسان سنگھ کا دفتر بن گیا ہے۔ واضح رہے کہ واجپائی نے کسی وقت ’’ پہلے ووٹ۔ پھر ناشتہ ‘‘ کا نعرہ دیا تھا۔ اس فہرست میں واجپائی کا نمبر 1054 تھا۔ انہوں نے آخری مرتبہ 2000 کے انتخابات میں مجالس مقامی کیلئے ووٹ دیا تھا۔ واجپائی علیل ہیں اور انہوں نے 2004 کے بعد سے کبھی اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کیا ہے۔واجپائی نے 2004 میں دارالحکومت میں ووٹ ڈالا تھا اور وہ اکثر مجالس مقامی انتخابات میں ووٹ ڈالنے پولنگ بوتھ آیا کرتے تھے۔انہوں نے 2006 میں مئیر کے عہدہ کیلئے دنیش شرما کے حق میں مہم بھی چلائی تھی جو اس وقت ڈپٹی چیف منسٹر ہیں۔واضح رہے کہ واجپائی اب دارالحکومت دہلی میں مقیم ہیں اور انتہائی علیل ہیں۔ وہ کسی سے ملاقات نہیں کرتے۔ سینئر قائدین اڈوانی اور راج ناتھ سنگھ کبھی ان کی مزاج پرسی کرلیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow