اہم ترین

دینی فکر کے فروغ میں ماہنا مہ عالمی ترجمان القرآن کا نمایا ں کردار

دینی فکر کے فروغ میں ماہنا مہ عالمی ترجمان القرآن کا نمایا ں کردار
سکالر محمد اسلم ایم فل اسلامیات۔
ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ستمبر۱۹۳۲ء بمطابق رجب ۱۳۵۱ھ میں حیدرآباددکن سے شائع ہوناشروع ہوا۔ ’’ترجمان القرآن ‘‘کے بانی مولانا ابومحمدصالح صاحب (۱۸۷۸۔۱۹۶۷ء)ہیں۔انھوں نے اپنی’’ عالمگیر تحریک قرآن مجید‘‘کے سلسلے میں یہ رسالہ جاری کیا۔ اس کی پہلی جلد چھوٹے سائز پرشائع ہوئی۔ چھ ماہ کی اشاعت کے بعد مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے یہ رسالہ مولانا ابو مصلح سے خریدلیااوراپنی ادارت میں اسے شائع کرناشروع کیا۔ اسی دور میں تہذیب اوراس کے ’’اصول ومبادی،’’صبروقدر‘‘،’’تنقیحات‘‘،’’اسلام اور ضبط ولادت‘‘،’’تفہیمات‘‘،’’حقوق الزوجین‘‘، ’’سود‘‘، ’’پردہ‘‘کے بیشتراجزاء ابتداء ’’ترجمان القرآن‘‘ہی میں شائع ہوئے۔مولانا مودودی کی زیرادارت سے لیکر آج تک یہ رسالہ چندوقفوں کی پابندی کے سوا مسلسل شائع ہورہاہے۔
’’ماہنامہ ترجمان القرآن‘‘۱۹۳۷ء تک حیدرآباددکن سے شائع ہوتارہا۔ ضلع گورداس پورکے ایک صاحب حیثیت اور مخلص مسلمان چوہدری نیاز علی خاں کواپنے مجوزہ علمی اورتبلیغی مرکز کے لیے کسی مناسب عالم کی تلاش تھی۔ علامہ اقبال کی ہدایت پرچوہدری نیازعلی صاحب نے اس سلسلہ میں مولاناسے مسلسل خط وکتابت کی۔ چوہدری صاحب کے پرزور اصرار پر ۱۹۳۷ء کے آخرمیں وہ دکن سے جمال پور(پٹھان کوٹ)آگئے۔پھرجنوری ۱۹۳۷ء سے لیکر ۱۹۴۷ء تک یہ رسالہ یہیں سے شائع ہوتارہاجبکہ اس کی طباعت لاہور میں ہوتی تھی۔
تقسیم ہندکے موقع پرمولانامودودیؒ پٹھان کوٹ سے ہجرت کرکے۳۰اگست۱۹۴۷ء کولاہورپہنچے۔ اس طرح’’ترجمان القرآن‘‘جون ۱۹۴۸ء سے لاہور سے نکلناشروع ہوا۔
۱۹۷۶ء میں جب اس علمی رسالے کی ۸۵جلدیں مکمل ہوچکی تھیں تواسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی نے اس کے ایک جامع اورمفصل اشارئیے کی ترتیب کامنصوبہ بنایا۔ چنانچہ حکیم نعیم الدین زبیری صاحب نے بڑی محنت کرکے اس کا اشاریہ مکمل
کیا۔حکیم نعیم الدین زبیری صاحب کامرتب کردہ’’اشاریہ‘‘ابتدائی جلدوں سے یعنی ۱۹۳۲ء سے لیکر۱۹۷۶ء تک کاہے۔یہ ’’اشاریہ‘‘دوحصوں پرمشتمل ہے۔ اشاریہ مصنفین اوراشاریہ موضوعات۔ پہلے حصے یعنی اشاریہ مصنفین میں مضمون نگار حضرات کے ناموں کی الف بائی ترتیب کے تحت ان کے تحریر کردہ مضامین درج ہیں۔ اور دوسرے حصے یعنی اشاریہ موضوعات میں مختلف موضوعات کے تحت مضامین ومقالات کااندراج ہے۔
جبکہ ۱۹۹۳ء میں ادارہ علوم شعبہ اسلامیہ جامعہ پنجاب کے بورڈ آف اسٹڈیزکی ہدایت پر’’ترجمان القرآن‘‘کا۱۹۷۷ء سے دسمبر۱۹۹۳ء تک کا اشاریہ مرتب کیاگیاہے۔ اس میں مختلف عنوانات کے تحت جو مضامین شائع ہوئے ہیں۔ ان کو علیحدہ علیحدہ ابواب کی شکل میں مرتب کیاگیاہے۔ ہرباب دوحصوں ’’اشاریہ مصنفین‘‘ اور’’اشاریہ موضوعات‘‘پرمشتمل ہے۔ اور سب مضامین کوئف بائی ترتیب دیاگیا ہے۔ اسی طرح تمام مصنفین کی بھی الف بائی ترتیب بنائی گئی ہے۔
ماہنامہ ترجمان القرآن 1923میں شائع ہواوراس کے مدیرابومحمدمصلح کا ن اللہ (حیدرآبادی دکن)تھے۔رسالہ کے شروع میں قرآن پاک کی آیات لکھی گئی ہیں
أَلَمْ یَأْنِ لِلَّذِیْنَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُہُمْ لِذِکْرِ اللَّہِ ۔۱؂
’’کیاایمان والوں کیلئے اب بھی وقت نہیں آیاکہ ان کے دل اللہ کے ذکر قرآن کی طرف جھک پڑیں‘‘
*ماہنامہ ترجمان القرآن الابلاغ ٹرسٹ کے زیرانتظام جماعت اسلامی کے دفترمنصورہ لاہورسے شائع ہوتاہے
جس کے مدیرپروفیسرخورشید احمداورنائب مدیرمسلم سجادہیں۔
مجلے کاسابقہ نام ماہنامہ ترجمان القرآن اور موجودنام’’ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن‘‘ہے جس کاپہلاشمارہ مئی
2011کے نام سے شائع ہوا۔ ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن دراصل ’’ماہنامہ ترجمان القرآن ‘‘کاتسلسل ہے جس کا اجراء مسلمانوں کیلئے دین کی جدوجہد کی خاطر سیدابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے محرم ۳۱۵۲یعنی مئی ۱۹۳۳میں حیدرآباددکن (بھارت)سے کیااوراس کے کچھ دیربعد پنجاب (پاکستان)لے آئے اورلاہورمیں سکونت اختیار کی اور مجلے کوجاری رکھتے ہوئے مارچ۲۰۱۱ تقریباً۷۵سال تک یہ ’’ماہنامہ ترجمان القرآن‘‘کے نام سے شائع ہوتارہا۔اس طرح اس رسالے نے ۱۳۷جلدیں مکمل کی اور اسی نام سے ۱۳۸جلدکاتیسرااورآخری شمارہ شائع ہواتھا۔ اوراس طرح ماہنامہ ’’عالمی ترجمان القرآن‘‘ قرآن پاک کے نام سے پہلاشمارہ نکالاگیا۔ دورحاضرمیں ماہنامہ ’’عالمی ترجمان القرآن ‘‘ قرآن پاک کے بتائے ہوئے راستے کوسمجھنے کاآسان ذریعہ ہے اس مجلے کے پڑھنے سے ایمان کوتازگی اورحکمت کی باتوں سے آگاہی ملتی ہے۔اس مجلے میں فہم حدیث،حکمت مودودی،تزکیہ وتربیت انسان کیلئے بہترین زندگی گزارنے کے اصول جیسی تحریریں بھی موجودہیں۔مجلے کے پہلے صفحہ پرقرآن پاک کی آیات وَکَلِمَۃُ اللّہِ ہِیَ الْعُلْیَاِ۔ ۲؂
درج ہوتی ہیں اللہ کاکلمہ بلندہے(روشن)۔
مجلہ کی جسامت’’ڈائجسٹ سائز‘‘اورصفحات کی تعدادزیادہ تر۱۱۴ہوتی ہے۔مجلہ ماہنامہ ’’عالمی ترجمان القرآن‘‘ کے شماروں کی CDsموجود ہیں اور انٹرنیٹ پربھی شماروں تک رسائی ممکن ہے۔*ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن کے شماروں میں بعض اوقات خصوصی اشاعت بھی شائع ہوتاہے۔
ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن سرورق پرالابلاغ ٹرسٹ لکھا ہوتاہے جبکہ ماہنامہ’’ترجمان القرآن‘‘کے تمام شماروں پرادارہ ہے۔ماہنامہ ترجمان القرآن لکھاہوتاہے۔۱۹۹۷سے لگاتار مدیرپروفیسرخورشیداحمداورنائب مسلم سجادہیں۔ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن اسلام اورمغرب کی کش مکش کے مراحل بیان کرتاہے ذاتی تربیت اوراخلاق کیلئے رہنمائی دیتاہے۔ دورحاضر میں دین کے مطابق زندگی گزارنے کیلئے رہبرہے۔ اسلام کے خلاف دشمنوں کی نشاندہی کرتاہے۔ما ہنا مہ ترجمان القرآن معاشی بدحالی اورغیر اخلاقی بگاڑسے نجات کاسبب ہے اور قومی مسائل سے آگاہی دیتاہے۔ماہنامہ ترجمان القرآن کی اشاعت کاسلسلہ شروع سے اب تک مختلف واقعات کے سبب تقریباّ۵ مرتبہ تعطل کاشکارہوچکاہے لیکن اپنی صداقت کے سبب دوبارہ بحال ہوتارہا۔ما ہنامہ عالمی ترجمان القرآن کی ترسیل مختلف ممالک میں ہوتی ہے جن میں یورپ،امریکا،کینیڈ، آسٹریلیا، بھارت، بنگلہ دیش، ایران وغیرہ شامل ہیں۔
یہ مجلہ فرقہ واریت کی حوصلہ شکنی کرتاہے۔ماہنامہ ترجمان القرآن میں حالات حاضرہ پرفیچراور کبھی کبھی تحقیقی مقالات بھی پڑھنے کو ملتے ہیں۔اکثراہل علم ان تحریرات اورافادات سے استفادہ کرتے ہیں تودوسری طرف ان کے بعض خیالات و نظریات میں ان سے علمی اختلاف بھی رکھتے ہیں۔جماعت اسلامی کاترجمان ہونے کے ناطے یہ ایک تحریکی مجلہ ہے خوداس کے متعلقین کے مطابق’’ماہنامہ ترجمان القرآن‘‘ ایک رسالہ نہیں بلکہ پیغام ایک مشن اور ایک تحریک ہے۔
ما ہنا مہ ترجمان القرآن بطور دینی خدمات کا ذریعہ
انسان طبعی طور پر دوسروں کے ساتھ مل کر رہنا پسند کرتاہے اوراکیلا زندگی بسر نہیں کرسکتا،دنیا کا کوئی بھی معاشرہ چاہے بڑا ہویاچھوٹا ،مختلف انسانی کرداروں پر مشتمل ہوتاہے۔جس میں ہر انسان اپنے اہل وعیال ،ماں باپ ،عزیزواکارب اوردوست واحباب کے ساتھ شب وروز بسرکرتاہے۔تاکہ معصیت ومشکلات میں ایک دوسرے کا تعاون اور فرحت وسرور کے لمحات میں ایک دوسرے کی خوشیوں میں شامل ہوکر اجتماعی زندگی کا لطف اٹھایا جاسکے کوئی انسان تن تنہا خوش بختی اور کامیوں سے ہمکنارنہیں ہوسکتا۔افرادسے خاندان تشکیل پاتاہے اورخاندانوں سے معاشرہ معرض وجود میں آتاہے۔ایک اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے اسلامی خاندانوں کا وجود بنیادی حیثیت کاحامل ہے ۔اسلامی خاندانی نظام کے تحت شریعت نے خاندان کے سربراہ کو اپنے ماتحت افرادکا نگران مقرر کیاہے۔جس کی ذمہ داریوں کے متعلق سوال کیاجائے گا۔اور ماتحت افراد سے بھی انکے حقوق وفرائض کاحساب وکتاب لیاجائے گا۔حقوق وفرائض کی ادائیگی اور اپنی ذمہ داری سے عہد برآہوتے ہوئے کسی قسم کی پیچیدگیاں اور مشکلات جنم لیتی ہیں اور بے شمار مسائل کا سامنا کرنابڑتاہے جن کا حل شریعت نے انتہائی احسن انداز میں پیش کیاہے۔مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم شرعی تعلیمات سے آگاہی نہ رکھنے کی بناء پر ان کاصحیح حل تلاش کرنے اور دینی تعلیمات کی روشنی میں افراد خانہ کی رہنمائی سے قاصر رہتے ہیں۔یہ رسالہ اس لحاظ سے انتہائی اہم ہے کہ اس میں علمائے عرب وعجم کے فتاویٰ جات کی روشنی میں خاندانی مسائل کا حل خوبصورت پیرائے میں بیان کیا جاتاہے۔قرآن مجید میں ہے۔
إِلَیْْہِمْ فَاسْأَلُواْ أَہْلَ الذِّکْرِ إِن کُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونََ ۔۱؂
ترجمہ: ’’سوپوچھ لو،یادرکھنے والوں سے اگرتم نہیں جانتے‘‘33333
بلاشبہ اہل علم کا منصب ہے کہ متلاشیان علم کی علمی ضرورت کو پورا کیاجائے اور انکی علمی پیاس بجھائی جائے لیکن اس کے ساتھ عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی علمی تشنگی اہل علم کے پاس جاکر دورکریں۔سوال وجواب ،استغتاء اور فتویٰ اسی قرآن وسنت کے حکم کی تعمیل اس علمی ودینی ضرورت کی تکمیل کی ایک شکل ہے۔یہی وجہ ہے کہ چودہ سوسال سے مسلمان اپنے روزمرہ زندگی کے دینی مسائل اکابر اہل علم اورارباب فتاویٰ کے سامنے پیش کرتے ہیں اور وہ قرآن سنت کی روشنی میں اس کا حل بتاتے چلے آرہے ہیں ۔زمانہ قدیم کے ضخیم فتاویٰ ہوں یا دورحاضر کے ارباب فتاویٰ کی علیم کاوشیں،سب ایسی ضرورت کو پورا کررہی ہیں۔ہمارے بزرگوں کو اللہ تعالیٰ نے بڑی جامعیت سے نوازہے ۔چنانچہ وہ علم وعمل،تقویٰ وطہارت ،تصنیف وتالیف ،تعلیم وتدریس ،اصلاح وتربیت وغیرہ ہر میدان میں امام نظر آتے ہیں۔اب ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام معاملات خواہ انفرادی ہوں یا اجتماعی انہیں شریعت اسلامی کے مطابق استوار کرے کیونکہ یا شریعت آخری شریعت ہے اور قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے یہی شریعت راہنمائی اورہدایت کاذریعہ ہے۔
اہل علم جانتے ہیں کہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ میں احکامات سے متعلق واضح محدود تعداد میں ہیں جبکہ انسانی زندگی کے مسائل لامحدود ہیں اور ظاہر بات ہے کہ ان غیر متناہی اور لامحدود مسائل کے اصول اور اساس قرآن کریم اور احادیث نبویہ ہی ہیں ۔اس کے لیے ضروری ہے کہ قرآن وحدیث میں غوروفکر کرکے ان سے مسائل کا حل تلاش کیا جائے اور ان کے مطابق اپنی زندگی ڈھالی جائے ۔اب اس کی دوہی صورتیں ممکن ہوسکتی ہیں۔
تو ہر مسلمان اتنی بصیرت ،اتنا علم،اس قدر فہم صلاحیت رکھتا ہو کہ وہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے مسائل کا استناط اور استخراج کرسکے اور اسی کا نام ’’اجتہاد‘‘ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ مکتب،بصیرت اور صلاحیت دی ہوئی ہے پیش آمدہ مسائل کے حل کے لیے ان پر اعتماد کرکے ان کے بتائے ہوئے طریقوں اور ہدایات پر عمل کیاجائے ۔اسی کا نام’’تقلید‘‘ہے اور اس پورے عمل کا نام ’’فقہ ‘‘ہے۔ فقہ اسلامی جس شکل میں آج ہمارے پاس موجود ہے دنیا کی کسی قوم ،کسی مذہب اور کسی تہذیب و تمدن میں اس کی مثال نہیں ملتی۔اسی فقہ کا ایک حصہ دوسرے فتویٰ یا فتاویٰ سے تعبیر کیا جاتاہے۔درحقیقت کسی سوال کے جواب میں بتائے گے مسئلے کا نام فتویٰ ہے اور اس فتویٰ کا سلسلہ حضور کریمﷺ کے عہدمبارک سے چلا آرہا ہے۔
یہ رسالہ ’’ترجمان القرآن‘‘ جس کی اشاعت ۱۹۳۲ء سے شروع ہوئی اور ایک تسلسل سے اس میں سوال وجواب کا باب شامل کیاجاتاہے۔جس میں امت کے بھٹکے ہوئے انسانوں کی ہدایت کا سامان اور شرعی حکم بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مسائل کودرپیش مسائل اور مشکلات سے نکلنے کی رہنمائی کی گئی ہے بلاشبہ اس رسالہ کے ذریعے لاکھوں انسانوں کی علمی ضروریات پوری ہوئیں اور جو لوگ شرم کی بنا پر مسائل نہیں پوچھ سکتے یا ان کو معلوم نہیں تھا کہ پوچھیں تو کس سے اورکس طرح؟تو اس رسالہ کے ذریعے گھر بیٹھے انکے مسائل حل ہونے لگے یہ رسالہ لوگوں کی نفع رسانی کاسامان کئے ہوئے تھے۔
سوالات کے جوابات عام فہم عوامی انداز میں دیئے گئے ہیں ،علمی انداز میں جو فتویٰ نویسی کا خاص انداز ہے اس سے اجتناب برتاگیا ہے ۔مسائل کے جوابات عام فہم اور سہل ہونے کے باوجود متانت وثقافت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنے دیاگیا۔
صرف سوال کے جواب پر ہی اکتفاء نہیں کیاگیابلکہ بہت سی جگہوں پر ضرورت کے تحت مشورہ بھی دیاگیا ہے جس سے عام طور پر فتاوی کی کتابیں خالی ہیں۔
اختلافی مسائل سے عموماً اجتناب کیاگیاہے۔اس رسالہ میں عبادات ،حقوق العباد ،حقوق اللہ ،وراثت،زکوۃ،سود،مخلوط تعلیم،سیاست،روزہ مرہ کے مسائل،رزقِ حلال و حرام کے مسائل کسے آگاہ کیا گیا ہے۔اس سے مکمل رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow

Online Shopping in BangladeshCheap Hotels in Bangladesh